Sachi Toba Aur Rahmat-e-Ilahi (سچی توبہ اور رحمتِ الٰہی)



سچی توبہ اور رحمتِ الٰہی


حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر تم لوگ گناہ نہ کروتو اللہ تعالیٰ تمہیں اُٹھا لے اور تمہاری جگہ ایسے لوگ پیدا کر دے جو گناہ کریں اور اللہ سے بخشش و مغفرت چاہیں اور پھر اللہ تعالیٰ انہیں بخشے۔"

 

اس حدیث ِپاک کا مطلب اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کی وسعت کو بیان کرنا ہے اور یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اسمِ پاک "غفور" کی شان کو ظاہر کرنے کے لیۓ اتنا بخشش کرنے والا ہے اس لیۓ لوگوں کو چاہیۓ کہ وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرنے میں ذرا بھی کوتاہی نہ کریں، خدانخواستہ اس حدیث کے ذریعے گناہ کی ترغیب مقصود نہیں ہے کیونکہ گناہ سے بچنے کا حکم خود اللہ پاک نے دیا ہے اور اپنے پیغمبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس دنیا میں اس لیۓ بھیجا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو گناہ و معصیت کی زندگی سے نکال کر اطاعت و عبادت کی راہ پر لگا دیں۔

 

اس ارشاد میں تو ان سعادت مندوں کے لیۓ بڑا سہارا اور ڈھارس کا سامان ہے جو اپنی بشری کمزوری سے بہت سے گناہ تو کر گزرے مگر اب خوف کی وجہ سے پسے جا رے ہیں کہ ہاۓ اللہ! اب ہمارا کیا ہو گا، ایسے لوگوں کے لیۓ اس ارشاد میں یہ تعلیم ہے کہ خوف پر رجاء کو اور ناامیدی پر امیدی کو غالب رکھیں اور اللہ کے قہر و غضب سے اسکی رحمت پر زیادہ نظر رکھیں۔

 

اللہ پاک کو اپنے بندے کی توبہ بڑی پسند ہے کہ ایک بار ایک بزرگ کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں دیکھا کہ نوجوان اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ جو کبھی گناہ نہ کرے اس پر نگاہِ کرم زیادہ اور خاص ہوتی ہے یا پھر اس پر جو گناہ کر کے توبہ کر لے۔ بزرگ نے کہا، "میں کوئ عالم تو نہیں ہوں، میرا کام کپڑے بُننے کا ہے۔ لمبے دھاگے ہوتے ہیں جو دھاگہ ٹوٹ جاۓ اس کی میں گرہ لگاتا ہوں اور پھر خاص نظر بھی اس پر رکھتا ہوں  کہ پھر سے نہ ٹوٹ جاۓ ممکن ہے گناہوں سے جس کی تار ٹوٹ گئ ہو اللہ سے وہ سچی توبہ کی گرہ لگاتا ہے اور اللہ پاک پھر اس پر نظرِخاص رکھتا ہے کہ کہیں پھر سے نہ ٹوٹ جاۓ۔"

 

اللہ پاک نے تمام مومنوں کو اللہ کے حضور صدقِ دل سے توبہ کرنے کی نصیحت کی ہے، یعنی وہ ان تمام اعمال سے تائب ہو جائیں جن سے اللہ ناراض ہوتا ہے، اور ان تمام اچھے اعمال کو اپنائیں ،جنہیں اللہ پاک پسند کرتا ہے۔

 

اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

"اے مومنو! تم سب اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو، تاکہ تم فلاح پاجاؤ۔    (النور:31)

 

اللہ نے اپنی عفو و مغفرت کا دروازہ کھول رکھا ہے، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ گناہوں کی معافی، پردہ پوشی اور اپنی توبہ کی قبولیت کے طلبگار بنتے ہوۓ اس کے کرم و جود کی بارشوں کی طرف پلٹیں، نہ انہیں کوئ اللہ کی رحمت سے دور کرنے والا دور کر سکتا ہے، اور نہ ہی ان کے اور اللہ کے درمیان کوئ دروازہ بند کیا جاۓ گا۔

 

امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے ایک شخص نے قحط سالی اور بارش نہ ہونے کا شکوہ کیا، دوسرے نے فقر و فاقہ کا، تیسرے نے مال کی کمی کا، چوتھے نے نرینہ اولاد نہ ہونے کا شکوہ کیا تو انہوں نے سب کا ایک ہی جواب دیا کہ "استغفار کرو" اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو۔ حضرت حسن بصری سے لوگوں نے پوچھا، "یہ کیا معاملہ ہے کہ آپ نے سب لوگوں کو مختلف شکایتوں کا ایک ہی علاج بتایا ہے۔" حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ نے جواب میں سورہ نوح کی یہ آیات تلاوت فرمائیں:

 

"سو میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو، وہ یقینا بڑا بخشنے والا ہے۔ برساۓ گا وہ آسمان سے تم پر موسلا دھار بارش۔ اور تمہیں خوب پے در پے مال اور اولاد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لیۓ نہریں نکال دے گا۔"

(نوح : 10ـ12)

 

جس نے صبح و شام صدقِ دل سے "سید الاستغفار" کو پڑھااور اسی دن یا رات فوت ہو گیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ 

  

بیشک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بہت محبت و شفقت رکھتا ہے اور جب کبھی کوئ توبہ کرتا ہے تو وہ اسے بخش دیتا ہے۔ تو ہمیں چاہیۓ کہ روزانہ اپنے قیمتی وقت سے تھوڑا وقت استغفار کے لیۓ بھی دیں، یہ ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے، زندگی کا جو لمحہ گزر گیا اب وہ کبھی نہیں آئے گا اور وقت مسلسل گزر رہا ہے جتنی نیکیاں کر سکتے ہیں کر لیں۔

 

اللہ پاک ہمیں نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ 

اللھم آمین!


Comments

  1. Replies
    1. پڑھنے کا بہت شکریہ یہ پوسٹ أگے بھی شیٸر کیجیۓ صدقہ جاریہ ہے اور اسے سبسکراٸب بھی کر دیجیۓ۔جزاک اللہ خیرا۔

      Delete

Post a Comment

Popular posts from this blog

Drood Pak Ki Ahmiyat Aur Fazilat (درود پاک کی اہمیت و فضیلت)