Walidein Ki Azmat (والدین کی عظمت)
والدین کی عظمت
اسلام نے جہاں بہت ساری چیزوں کو اہمیت دی ہے،اور
اس کو اسلام کی اساس قرار دیا ہے، وہیں اس نے والدین کی عظمت اور ان کے ساتھ حسنِ
سلوک پر بھی بہت زور دیا۔ چنانچہ اللہ عزوجل نے قران میں ارشاد فرمایا کہ
"تم اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کی عبادت مت
کرو اور اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آؤ۔"
اللہ کے رسول نے فرمایا کہ "والدین کی خوشی
میں اللہ کی رضا مندی ہے۔ اگر کوئ شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرے
اور جنت میں جانے کا خواہاں ہوتو اسے چاہیۓ کہ وہ والدین کی عزت کرے۔"
جب ہم اسلام سے قبل کے دور پر غورو فکر کرتے ہیں
ہمیں یہ چیز مفقود نظر آتی ہے۔ عہدِ جاہلیت میں والدین اپنی بچیوں کوزندہ درگور کر
دیتے تھے۔ اس قبیح فعل کو انجام دینے میں انہیں نہ کوئ ہچکچاہٹ ہوتی اور نہ وہ کوئ
عار محسوس کرتے۔ اسلام کی آمد کے بعد ان غیر انسانی اور غیر اخلاقی افعال پر
پابندی عائد کر دی گئ۔ وہیں اسلام نے بچو ں کو بھی یہ حکم دیا کہ وہ اپنے والدین کی عزت کریں۔ بلکہ اس نے
دونوں یعنی ماں اور باپ کے الگ الگ مقام و مرتبہ کی وضاحت کر دی۔ چنانچہ فرمایا
گیا کہ "اگر والدین میں سے دونوں تم کو ایک ساتھ بلائیں تو پہلے ماں کے پاس
جاؤ اس لیۓ کہ اس کا حق تم پر سب سے زیادہ ہے۔ وہی وہ ذات ہے جس نے تمہیں نو ماہ
اپنے پیٹ میں رکھا اور سخت تکالیف برداشت کیں اور اپنی راتوں کی نیندوں کو قربان
کیا۔ اس لیۓ پہلے اسکی طرف توجہ کی جاۓ اسکے بعد والد کی طرف۔
ماں کی عظمت اور اسکے مقام کا اندازہ عہدِ نبوی
کے اس واقعہ سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک مرتبہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ
وسلم کی خدمت میں چند صحابہ کرام علیہم الرضوان آۓ اور عرض کیا کہ فلاں محلے کے
ایک نوجوان کی روح نہیں نکل رہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دریافت فرمایا
کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا، "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ
والہ وسلم! اس کی ماں اس لڑکے سے ناراض ہے۔ وہ اسکو معاف نہیں کر رہی ہے۔ اس لیۓ
اسکی یہ حالت ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے صحابہ کرام کو حکم دیا
کہ ایک جگہ بہت ساری لکڑیاں جمع کی جائیں، چنانچہ صحابہ کرام نے لکڑیاں جمع کیں۔
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اُس جگہ تشریف لے گۓ اور حکم دیا کہ اس لڑکے کو اس آگ
میں ڈال دیا جاۓ۔
جیسے ہی یہ بات اس کی ماں کو معلوم ہوئ اس نے اپنے بیٹے کی غلطی کو معاف کر
دیا اور ماں کے معاف کرتے ہی نوجوان کی روح اسکے جسم سے الگ ہو گئ اور وہ سکون کی
نیند سو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا "اگر تُو اسے
نہیں معاف کرتی تو اللہ بھی اسکو نہیں معاف کرتا۔"
قربان جائیے کہ اللہ کے رسول نے کس خوبصورت
انداز میں نہ صرف یہ کہ اس نوجوان کو واصلِ جہنم ہونے سے بچا لیا بلکہ اس کے ساتھ
ہی اس واقعے کے ذریعے امت کو یہ تعلیم بھی دی کہ ماں کی ناراضگی میں اللہ کی
ناراضگی ہے۔۔۔
اللہ عزوجل ہم سب کو اس بات کی توفیق عطا فرماۓ کہ
ہم والدین کی عزت و اطاعت کر کے ان کی محبت اور اللہ کی قربت حاصل کریں اور دین و
دنیا دونوں جگہ کامیاب ہو سکیں۔
آمین!

Comments
Post a Comment