Posts

Showing posts from 2020

Drood Pak Ki Ahmiyat Aur Fazilat (درود پاک کی اہمیت و فضیلت)

Image
درود پاک کی اہمیت و فضیلت دردو و سلام ہو تمام نبیوں کے سردار اور افضل ہستی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر۔   اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے، "بیشک اللہ اور اسکے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے نبی پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔۔۔"   سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجنا واجب ہےہر ایک مجلس میں آپکا ذکر کرنے والے پر بھی اور سننے والے پر بھی ایک مرتبہ اور اس سے زیادہ مستحب ہے اور نماز کے قعدہ اخیرہ میں بعد تشہد درود شریف پڑھنا سنت ہے۔   اللہ عزوجل کے درود بھیجنا کا مطلب اسکا رحمت فرمانا ہےاور اسکا معنی" آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت کی عظمت بیان کرنا، قیامت تک اسکو باقی رکھنا اور آخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت اُمت کے حق میں قبول فرمانا۔"   فرشتوں کے درود بھیجنے کا مطلب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت کے حق میں استغفار کرنا ہے۔   مؤمنین کے درود بھیجنے کا مطلب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقامِ محمود پر مبعوث ہونے کی دعا کرنا ہے۔علماءِ کرام فرماتے ہیں کہ درود پاک پڑھنے کا ایک م...

Sachi Toba Aur Rahmat-e-Ilahi (سچی توبہ اور رحمتِ الٰہی)

Image
سچی توبہ اور رحمتِ الٰہی حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر تم لوگ گناہ نہ کروتو اللہ تعالیٰ تمہیں اُٹھا لے اور تمہاری جگہ ایسے لوگ پیدا کر دے جو گناہ کریں اور اللہ سے بخشش و مغفرت چاہیں اور پھر اللہ تعالیٰ انہیں بخشے۔"   اس حدیث ِپاک کا مطلب اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کی وسعت کو بیان کرنا ہے اور یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اسمِ پاک "غفور" کی شان کو ظاہر کرنے کے لیۓ اتنا بخشش کرنے والا ہے اس لیۓ لوگوں کو چاہیۓ کہ وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرنے میں ذرا بھی کوتاہی نہ کریں، خدانخواستہ اس حدیث کے ذریعے گناہ کی ترغیب مقصود نہیں ہے کیونکہ گناہ سے بچنے کا حکم خود اللہ پاک نے دیا ہے اور اپنے پیغمبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس دنیا میں اس لیۓ بھیجا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو گناہ و معصیت کی زندگی سے نکال کر اطاعت و عبادت کی راہ پر لگا دیں۔   اس ارشاد میں تو ان سعادت مندوں کے لیۓ بڑا سہارا اور ڈھارس کا سامان ہے جو اپ...

Riyakaari (ریا کاری)

Image
ریا کاری فرمانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! "آگاہ رہو کہ جسم میں ایک لوتھڑا گوشت کا ہےجب وہ سنورے تو پورا جسم سنور جاتا ہے، اگر وہ بگڑے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے ،سنو! وہ دل ہے۔" مفسر شہیر حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان رحمتہ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: "یعنی دل بادشاہ ہے اور جسم اسکی رعایا، جیسے   بادشاہ کے درست ہو جانے سے تمام مُلک ٹھیک ہو جاتا ہے، ایسے ہی دل سنبھل جانے سے تمام جسم ٹھیک ہو جاتا ہے، دل ارادہ کرتا ہے جسم اس پر عمل کی کوشش، اس لیۓ دل کی اصلاح پر بہت زور دیا جاتا ہے۔ دل کی حفاظت، اس کی اصلاح اور اسے درست رکھنے کی کوشش کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ دل کا معاملہ باقی اعضاء سے زیادہ خطرناک ہے، اور اس کا اثر باقی اعضاء سے زیادہ ہے۔ ظاہری اعمال کا باطنی اوصاف کے ساتھ   ایک خاص تعلق ہے اگر باطن خراب ہو تو ظاہری اعمال بھی خراب ہوں گے اور اگر باطن حسد، رِیا، اور تکبر وغیرہ عیوب سے پاک ہو تو ظاہری اعمال بھی درست ہوتے ہیں۔۔۔ باطنی گناہوں میں سے ایک گناہ ریاکاری بھی ہے۔ ریاکاری یعنی اللہ عزوجل کی رضا کے علاوہ کسی اور نیت یا ارادے سے عبادت کرنا ہ...

Akhri Ashra-e-Ramadan (آخری عشرہِ رمضان)

آخری عشرہِ رمضان   رمضان المبارک، رحمان کی طرف سے آنے والا معزز مہمان، نور کا سامان،بے پایاں رحمت کا سائبان، اور انسان کی بخشش کا ایسا حیرت انگیز اور قدرتی سامان ہے کہ اگر انسان پر اسکی حقیقت کھل جاۓ اور اسکی باطنی آنکھ وہ عجائبات اور مناظر دیکھنے لگ جاۓ جو فرشتوں کی آمدو رفت سے پیدا ہوتے ہیں تو وہ دم بخود رہ جاۓ اور اسکی خوشی کا کوئ ٹھکانا نہ رہے ۔   رمضان میں اللہ تعالی کے حکم سے، روزہ داروں کے لیۓ، فرشتے رحمتوں کے طباق اور سعادتوں کی سوغات لیکر آسمان سے اترنا شروع ہو جاتے ہیں اور افطاری کے وقت ان پر یہ رحمتیں انڈیل دیتے ہیں یہ سعادتوں سے بھرا ایسا بہار آفریں سماں ہوتا ہے جو اگر ان پر منکشف ہو جاۓ ، تو وہ یہ تمنا کرنے لگ جائیں کہ کاش! سارا سال ہی رمضان بن جاۓ اور انہیں یہ سعادتیں اور برکتیں ہمہ وقت حاصل ہوتی رہیں ۔   رمضان بخشش و مغفرت کا ذریعہ رحمتیں اور برکتیں حاصل کرنے کا مہینہ ہے ۔   غرضیکہ رمضان ایک ایسا ملکوتی اور نورانی مہمان ہے جو گنہگار انسانوں کے پاس آکر انہیں باطنی آلائشوں سے پاک کر دیتا ہے اور گناہوں کی گندگی سے پاک کر کے جنت میں رہنے کے...

Walidein Ki Azmat (والدین کی عظمت)

Image
والد ین کی عظمت اسلام نے جہاں بہت ساری چیزوں کو اہمیت دی ہے،اور اس کو اسلام کی اساس قرار دیا ہے، وہیں اس نے والدین کی عظمت اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک پر بھی بہت زور دیا۔ چنانچہ اللہ عزوجل نے قران میں ارشاد فرمایا کہ   "تم اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کی عبادت مت کرو اور اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آؤ۔" اللہ کے رسول نے فرمایا کہ "والدین کی خوشی میں اللہ کی رضا مندی ہے۔ اگر کوئ شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرے اور جنت میں جانے کا خواہاں ہوتو اسے چاہیۓ کہ وہ والدین کی عزت کرے۔" جب ہم اسلام سے قبل کے دور پر غورو فکر کرتے ہیں ہمیں یہ چیز مفقود نظر آتی ہے۔ عہدِ جاہلیت میں والدین اپنی بچیوں کوزندہ درگور کر دیتے تھے۔ اس قبیح فعل کو انجام دینے میں انہیں نہ کوئ ہچکچاہٹ ہوتی اور نہ وہ کوئ عار محسوس کرتے۔ اسلام کی آمد کے بعد ان غیر انسانی اور غیر اخلاقی افعال پر پابندی عائد کر دی گئ۔ وہیں اسلام نے بچو ں کو بھی یہ حکم دیا   کہ وہ اپنے والدین کی عزت کریں۔ بلکہ اس نے دونوں یعنی ماں اور باپ کے الگ الگ مقام و مرتبہ کی وضاحت کر دی۔ چنانچہ فرمایا گیا ...

اعمال کی جزاء

Image
اعمال کی جزاء شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ۔۔۔ ایک دن بادشاہ نے اپنے تین وزراء کو دربار میں بلایا اور تینوں کو حکم دیا کہ تینوں ایک ایک تھیلا لے کر باغ میں جائیں اور باغ سے بادشاہ کے لیۓ مختلف اچھے اچھے پھل جمع کریں۔ وزراء بادشاہ کے اس عجیب حکم پر حیران رہ گۓ اور تینوں ایک ایک تھیلا پکڑ کر الگ الگ باغ میں داخل ہو گۓ۔ پہلے وزیر نے کوشش کی کہ بادشاہ کے لیۓ اسکی پسند کے مزیدار اور تازہ پھل جمع کرے اور اس نے کافی محنت کے بعد بہترین اور تازہ پھلوں سے تھیلا بھر لیا۔ دوسرے وزیر نے دل میں سوچا کہ بادشاہ ایک ایک پھل کا خود تو جائزہ نہیں لے گا کہ کیسا ہے اور نہ ہی پھلوں میں فرق دیکھے گا۔ اسلیۓ اس نے بغیر دیکھے جلدی جلدی ہر قسم کے تازہ، کچے اور گلے سڑے پھلوں سے اپنا تھیلا بھر لیا۔ تیسرے وزیر نے سوچا کہ بادشاہ کی توجہ تو صرف تھیلے کے بھرے ہونے پر ہوگی۔ اسکے اندر کیا ہے اور کیا نہیں، اسے بادشاہ نہیں دیکھے گا۔ یہی سوچ کر وزیر نے اپنے تھیلے میں گھاس پھوس اور پتے بھر لیۓاور محنت سے بچ گیا اور وقت بھی بچایا۔ اگلے دن بادشاہ نے تینوں وزیروں کو اپنے اپنے تھیلوں س...

کنجوسی کا انجام

Image
کنجوسی کا انجام حضرت سیدنا یزیدبن میسرہ فرماتے ہیں: "ہم سے پہلی امتوں میں ایک شخص تھا جس نے بہت زیادہ مال و متاع جمع کیا ہوا تھا، اور اسکی اولاد بھی کافی تھی، طرح طرح کی نعمتیں اسے میسر تھیں، کثیر مال ہونے کے باوجود وہ انتہائ کنجوس تھا۔ اللہ عزوجل کی راہ میں کچھ بھی خرچ نہ کرتا، ہر وقت اسی کوشش میں رہتا کہ کسی طرح میری دولت میں اضافہ ہو جاۓ۔ جب وہ بہت زیادہ مال جمع کر چکا تو اپنے آپ سے کہنے لگا: "اب تو میں خوب عیش و عشرت کی زندگی گزاروں گا۔ چنانچہ وہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ خوب عیش و عشرت سے رہنے لگا۔ بہت سے خُدام ہر وقت ہاتھ باندھے اسکے حکم کے منتظر رہتے، الغرض! وہ ان دنیاوی آسائشوں میں ایسا مگن ہوا کہ اپنی موت کو بالکل بھول گیا۔ ایک دن ملک الموت حضرت سیدنا عزرائیل   ایک فقیر کی صورت میں اسکے گھر آۓ، اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ غلام جلدی سے دروازے کی طرف دوڑے، اور جیسے ہی دروازہ کھولا تو سامنے ایک فقیر کو پایا، اُس سے پوچھا: "تُو یہاں کس لیے آیا ہے؟" ملک الموت نے جواب دیا: "جاؤ، اپنے مالک کو باہر بھیجو مجھے اسی سے کام ہے۔" خادموں نے جھوٹ بو...

عجیب و غریب نشانی

Image
عجیب و غریب نشانی حضرت سیدنا حاتم اصم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری ایک راہب سے ملاقات ہوئ۔ میں نے اس سے کہا: "تجھے اس ذات کی قسم جس کی توُ عبادت کرتا ہے! اپنے معبود سے سوال کر کہ وہ ہمیں کوئ عجیب و غریب نشانی دکھاۓ۔" میری یہ بات سن کر راہب نے کہا: "تم کیا نشانی دیکھنا چاہتے ہو؟" میں نے کہا:" تم جس کی عبادت کرتے ہو اس سے دعا کرو کہ وہ سامنے خالی زمین میں تازہ کھجوروں سے لدا ہوا ایک درخت اُگا دے۔" وہ راہب اپنے گرجا میں داخل ہوا اور کچھ دیر بعد باہر آکر کہنے لگا: "وہ دیکھو! تمہارے سامنے کیا ہے؟" جب میں نے سامنے کی طرف دیکھا تو وہاں ایک کھجور کا درخت نظر آیا جس میں تازہ کھجوریں لگی ہوئ تھیں۔" پھر اس راہب نے مجھ سے کہا: "اے دین محمدی     کو ماننے والے! اب تُو اپنے معبود سے دعا کر کہ وہ ہمارے لیۓ کوئ عجیب و غریب نشانی ظاہر کرے۔" میں نے کہا: "اے راہب! بتا تُو کس طرح کی نشانی دیکھنا چاہتا ہے؟" اس نے کہا: "تم اپنے معبود سے دعا کرو کہ وہ اس کھجور کہ گرد سبزہ اُگا دے اور ہر طرف ہریالی ہی ہریالی کر دے۔...

ظلم کا انجام

ظلم کا انجام حضرت سیدنا عبد المنعم رحمتہ اللہ علیہ اپنے والد سے اور وہ حضرت سیدنا وہب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ کسی ملک میں ایک ظالم بادشاہ رہا کرتا تھا۔  اس نے ایک عظیم الشان محل بنوایا اور اسکی تعمیر پر کافی مال خرچ کیا، جب تعمیر مکمل ہو چکی تو اس نے ارادہ کیا کہ میں سارے محل کا دورہ کروں اور دیکھوں کہ یہ میری خواہش کے مطابق بنا ہے یا نہیں۔ چنانچہ بادشاہ نے اپنے چند سپاہیوں کو ساتھ لیا اور محل کہ دیکھنے چل پڑا۔ اندر سے دیکھنے کے بعد اس نے محل کے بیرونی حصوں کو دیکھنا شروع کیااور محل کے ارد گرد چکر لگانے لگا۔ ایک جگہ پہنچ کر وہ رک گیا اور ایک جھونپڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ پوچھا، "یہ ہمارے محل کے ساتھ جھونپڑی کس نے بنائ ھے؟ "سپاہیوں نے جواب دیا: ''چند روز سے یہاں ایک مسلمان بوڑھی عورت آئ ہے، اس نے یہ جھونپڑی بنائ ہے اور وہ اس میں اللہ عزوجل کی عبادت کرتی ہے۔" جب بادشاہ نے یہ سنا تو بڑے مغرورانہ انداز میں بولا: "اس غریب بڑھیا کو یہ جراٰت کیسے ہوئ کہ ہمارے محل کے قریب جھونپڑی بناۓ، اس جھونپڑی کو فوراَ گرادو۔" حکم پاتے ہی سپاہی جھون...