Posts

Showing posts from April, 2020

کنجوسی کا انجام

Image
کنجوسی کا انجام حضرت سیدنا یزیدبن میسرہ فرماتے ہیں: "ہم سے پہلی امتوں میں ایک شخص تھا جس نے بہت زیادہ مال و متاع جمع کیا ہوا تھا، اور اسکی اولاد بھی کافی تھی، طرح طرح کی نعمتیں اسے میسر تھیں، کثیر مال ہونے کے باوجود وہ انتہائ کنجوس تھا۔ اللہ عزوجل کی راہ میں کچھ بھی خرچ نہ کرتا، ہر وقت اسی کوشش میں رہتا کہ کسی طرح میری دولت میں اضافہ ہو جاۓ۔ جب وہ بہت زیادہ مال جمع کر چکا تو اپنے آپ سے کہنے لگا: "اب تو میں خوب عیش و عشرت کی زندگی گزاروں گا۔ چنانچہ وہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ خوب عیش و عشرت سے رہنے لگا۔ بہت سے خُدام ہر وقت ہاتھ باندھے اسکے حکم کے منتظر رہتے، الغرض! وہ ان دنیاوی آسائشوں میں ایسا مگن ہوا کہ اپنی موت کو بالکل بھول گیا۔ ایک دن ملک الموت حضرت سیدنا عزرائیل   ایک فقیر کی صورت میں اسکے گھر آۓ، اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ غلام جلدی سے دروازے کی طرف دوڑے، اور جیسے ہی دروازہ کھولا تو سامنے ایک فقیر کو پایا، اُس سے پوچھا: "تُو یہاں کس لیے آیا ہے؟" ملک الموت نے جواب دیا: "جاؤ، اپنے مالک کو باہر بھیجو مجھے اسی سے کام ہے۔" خادموں نے جھوٹ بو...

عجیب و غریب نشانی

Image
عجیب و غریب نشانی حضرت سیدنا حاتم اصم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری ایک راہب سے ملاقات ہوئ۔ میں نے اس سے کہا: "تجھے اس ذات کی قسم جس کی توُ عبادت کرتا ہے! اپنے معبود سے سوال کر کہ وہ ہمیں کوئ عجیب و غریب نشانی دکھاۓ۔" میری یہ بات سن کر راہب نے کہا: "تم کیا نشانی دیکھنا چاہتے ہو؟" میں نے کہا:" تم جس کی عبادت کرتے ہو اس سے دعا کرو کہ وہ سامنے خالی زمین میں تازہ کھجوروں سے لدا ہوا ایک درخت اُگا دے۔" وہ راہب اپنے گرجا میں داخل ہوا اور کچھ دیر بعد باہر آکر کہنے لگا: "وہ دیکھو! تمہارے سامنے کیا ہے؟" جب میں نے سامنے کی طرف دیکھا تو وہاں ایک کھجور کا درخت نظر آیا جس میں تازہ کھجوریں لگی ہوئ تھیں۔" پھر اس راہب نے مجھ سے کہا: "اے دین محمدی     کو ماننے والے! اب تُو اپنے معبود سے دعا کر کہ وہ ہمارے لیۓ کوئ عجیب و غریب نشانی ظاہر کرے۔" میں نے کہا: "اے راہب! بتا تُو کس طرح کی نشانی دیکھنا چاہتا ہے؟" اس نے کہا: "تم اپنے معبود سے دعا کرو کہ وہ اس کھجور کہ گرد سبزہ اُگا دے اور ہر طرف ہریالی ہی ہریالی کر دے۔...

ظلم کا انجام

ظلم کا انجام حضرت سیدنا عبد المنعم رحمتہ اللہ علیہ اپنے والد سے اور وہ حضرت سیدنا وہب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ کسی ملک میں ایک ظالم بادشاہ رہا کرتا تھا۔  اس نے ایک عظیم الشان محل بنوایا اور اسکی تعمیر پر کافی مال خرچ کیا، جب تعمیر مکمل ہو چکی تو اس نے ارادہ کیا کہ میں سارے محل کا دورہ کروں اور دیکھوں کہ یہ میری خواہش کے مطابق بنا ہے یا نہیں۔ چنانچہ بادشاہ نے اپنے چند سپاہیوں کو ساتھ لیا اور محل کہ دیکھنے چل پڑا۔ اندر سے دیکھنے کے بعد اس نے محل کے بیرونی حصوں کو دیکھنا شروع کیااور محل کے ارد گرد چکر لگانے لگا۔ ایک جگہ پہنچ کر وہ رک گیا اور ایک جھونپڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ پوچھا، "یہ ہمارے محل کے ساتھ جھونپڑی کس نے بنائ ھے؟ "سپاہیوں نے جواب دیا: ''چند روز سے یہاں ایک مسلمان بوڑھی عورت آئ ہے، اس نے یہ جھونپڑی بنائ ہے اور وہ اس میں اللہ عزوجل کی عبادت کرتی ہے۔" جب بادشاہ نے یہ سنا تو بڑے مغرورانہ انداز میں بولا: "اس غریب بڑھیا کو یہ جراٰت کیسے ہوئ کہ ہمارے محل کے قریب جھونپڑی بناۓ، اس جھونپڑی کو فوراَ گرادو۔" حکم پاتے ہی سپاہی جھون...