Riyakaari (ریا کاری)

ریا کاری


فرمانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! "آگاہ رہو کہ جسم میں ایک لوتھڑا گوشت کا ہےجب وہ سنورے تو پورا جسم سنور جاتا ہے، اگر وہ بگڑے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے ،سنو! وہ دل ہے۔"

مفسر شہیر حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان رحمتہ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: "یعنی دل بادشاہ ہے اور جسم اسکی رعایا، جیسے  بادشاہ کے درست ہو جانے سے تمام مُلک ٹھیک ہو جاتا ہے، ایسے ہی دل سنبھل جانے سے تمام جسم ٹھیک ہو جاتا ہے، دل ارادہ کرتا ہے جسم اس پر عمل کی کوشش، اس لیۓ دل کی اصلاح پر بہت زور دیا جاتا ہے۔

دل کی حفاظت، اس کی اصلاح اور اسے درست رکھنے کی کوشش کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ دل کا معاملہ باقی اعضاء سے زیادہ خطرناک ہے، اور اس کا اثر باقی اعضاء سے زیادہ ہے۔ ظاہری اعمال کا باطنی اوصاف کے ساتھ  ایک خاص تعلق ہے اگر باطن خراب ہو تو ظاہری اعمال بھی خراب ہوں گے اور اگر باطن حسد، رِیا، اور تکبر وغیرہ عیوب سے پاک ہو تو ظاہری اعمال بھی درست ہوتے ہیں۔۔۔

باطنی گناہوں میں سے ایک گناہ ریاکاری بھی ہے۔ ریاکاری یعنی اللہ عزوجل کی رضا کے علاوہ کسی اور نیت یا ارادے سے عبادت کرنا ہے۔ مثلاَ لوگوں پر اپنی عبادت گزاری کی دھاک بٹھانا مقصود ہو کہ کہ لوگ اس کی تعریف کریں۔

 یقیناَ نیکیوں کی توفیق مل جانا بہت بڑی سعادت ہے مگر بارگاہِ خداوندی میں ان کا مقبول ہو جانا ہی حقیقی کامیابی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم مشقتیں برداشت کر کے عبادتیں کریں مگر ریاکاری کی وجہ سے ہماری نیکیاں ضائع ہو رہی ہوں اور ہمیں خبر تک نہ ہو اس لیۓ ہمیں چاہیۓ کہ اپنی نیکیوں کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیۓ ریاکاری کا علم سیکھیں اور اس سے بچنے کی کوشش کریں۔

حضرت سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو فرماتے ہوۓ سنا۔ "جس نے دِکھاوے کے لیۓ روزہ رکھا تو اس نے شرک کیا، جس نے دکھاوے کے لیۓ نماز پڑھی تو اس نے شرک کیا اور جس نے ریاکاری کرتے ہوۓ صدقہ دیا تو اس نے شرک کیا۔"

حضرت سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:" بیشک عمل کر کے اسے ریا کاری سے بچانا عمل کرنے سے زیادہ مشکل ہے اور آدمی عمل کرتا ہے تو اسکے لیۓ ایسا نیک عمل لکھ دیا جاتا ہے جو تنہائ میں کیا گیا ہوتا ہے اور اس کے لیۓ ستر گنا ثواب بڑھا دیا جاتا ہے، پھر شیطان اس کے ساتھ لگا رہتا ہے (اور اُکساتا رہتا ہے) یہاں تک کہ وہ آدمی اس عمل کا ذکر لوگوں کے سامنے کر دیتا ہے، اسے ظاہر کرتا ہے تو اب اس کے لیۓ یہ عمل (مخفی کے بجاۓ) علانیہ لکھ دیا جاتا ہے اور اجر میں ستر گنا اضافہ مٹادیا جاتا ہے۔ شیطان پھر اس کے ساتھ لگا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ دوسری مرتبہ لوگوں کے سامنے اس عمل کا ذکر کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ لوگ بھی اسکا تذکرہ کریں اور اس عمل پر اسکی تعریف کی جاۓ تو اسے علانیہ سے بھی مٹا کر ریاکاری لکھ دیا جاتا ہے۔ پس بندہ اللہ عزوجل سے ڈرے، اپنے دین کی حفاظت کرے اور بیشک ریاکاری شرکِ اصغر ہے۔"

ہو سکتا ہے کسی کے دل میں شیطان  یہ وسوسہ ڈالے کہ جب ریاکاری کی اس قدر آفتیں ہیں اور ریاکاری سے بچنا بھی بے حد دشوار ہے تو سِرے سے نیک عمل ہی نہ کیا جاۓ تاکہ کم از کم ہم ریاکاری کی سزا سے تو بچ جائیں۔ تو ایسوں کی خدمت میں عرض ہے کہ ریاکاری کے خوف سے نیک عمل چھوڑنا دانشمندی کی بات نہیں کیونکہ اس طرح ہم اخلاص اور نیکی دونوں کے ثواب سے محروم ہو جائیں گے۔

لہٰذا ہمیں چاہیۓ کہ نیک عمل چھوڑنے کے بجاۓ اپنی نیت درست کر لیں کیونکہ اگر ناک پر مکھی بیٹھ جاۓ تو مکھی کو اُڑایا جاتا ہے ناک نہیں کاٹی جاتی۔

شیطان کا تو کام ہی یہی ہے کہ وہ ہمیں نیکیوں سے روک کر گناہوں میں مبتلا کر دے۔ اس لیۓ ریاکاری کے ڈر سے نیکیاں چھوڑنے کے بجاۓ ان کی کثرت کر کے شیطان کو ناکام و نامراد کر دیا جاۓ۔

اللہ عزوجل ہمیں ریاکاری سے بچتے ہوۓ اخلاص کی دولت سے مالا مال فرماۓ۔۔۔

میرا ہر عمل بس تیرے واسطے ہو

کر اخلاص ایسا عطا یا الٰہی


Comments

Popular posts from this blog

Drood Pak Ki Ahmiyat Aur Fazilat (درود پاک کی اہمیت و فضیلت)