اعمال کی جزاء



اعمال کی جزاء


شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ۔۔۔

ایک دن بادشاہ نے اپنے تین وزراء کو دربار میں بلایا اور تینوں کو حکم دیا کہ تینوں ایک ایک تھیلا لے کر باغ میں جائیں اور باغ سے بادشاہ کے لیۓ مختلف اچھے اچھے پھل جمع کریں۔ وزراء بادشاہ کے اس عجیب حکم پر حیران رہ گۓ اور تینوں ایک ایک تھیلا پکڑ کر الگ الگ باغ میں داخل ہو گۓ۔



پہلے وزیر نے کوشش کی کہ بادشاہ کے لیۓ اسکی پسند کے مزیدار اور تازہ پھل جمع کرے اور اس نے کافی محنت کے بعد بہترین اور تازہ پھلوں سے تھیلا بھر لیا۔

دوسرے وزیر نے دل میں سوچا کہ بادشاہ ایک ایک پھل کا خود تو جائزہ نہیں لے گا کہ کیسا ہے اور نہ ہی پھلوں میں فرق دیکھے گا۔ اسلیۓ اس نے بغیر دیکھے جلدی جلدی ہر قسم کے تازہ، کچے اور گلے سڑے پھلوں سے اپنا تھیلا بھر لیا۔

تیسرے وزیر نے سوچا کہ بادشاہ کی توجہ تو صرف تھیلے کے بھرے ہونے پر ہوگی۔ اسکے اندر کیا ہے اور کیا نہیں، اسے بادشاہ نہیں دیکھے گا۔ یہی سوچ کر وزیر نے اپنے تھیلے میں گھاس پھوس اور پتے بھر لیۓاور محنت سے بچ گیا اور وقت بھی بچایا۔

اگلے دن بادشاہ نے تینوں وزیروں کو اپنے اپنے تھیلوں سمیت دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا۔ جب تینوں دربار میں حاضر ہوۓتو بادشاہ نے تھیلوں کی طرف دیکھا بھی نہیں اور حکم دیا کہ تینوں کو انکے تھیلوں سمیت ایک ماہ کے لیۓ دوردراز جیل میں قید کر دیا جاۓ۔
  



 اب اس دوردراز جیل میں تینوں کے پاس کھانے پینے کے لیۓ کچھ بھی نہیں تھا، سواۓ ان تھیلوں کے جو انہوں نے خود بھر لیۓ تھے۔ اب پہلا وزیر، جس نے اچھے اچھے پھل چن کر جمع کیۓ تھے، وہ مزے سے اپنے انہیں پھلوں پرگزارہ کرتا رہا یہاں تک کہ ایک ماہ با آسانی گزر گیا اور دوسرا وزیرجس نے بغیر دیکھے تازہ اور خراب تمام پھل جمع کیۓ تھے۔ اسکے لیۓ بڑی مشکل پیش آئ۔ کچھ دن تو تازہ پھل کھا لیۓ لیکن پھر کچے اور گلے سڑے پھل کھانے پڑے جس سے وہ بہت زیادہ بیمار ہو گیا اور اسے بہت تکلیف اُٹھانی پڑی۔

تیسرا وزیر جس اپنے تھیلے میں صرف گھاس پھوس ہی جمع کیا تھا، وہ 
کچھ دن بعد ہی بھوک پیاس سے مر گیا کیونکہ اسکے پاس کھانے کو کچھ نہ تھا۔

اب ہمیں سوچنا چاہیۓ کہ ہم کیا جمع کر رہے ہیں؟ ہم اس وقت اس باغ میں ہیں جہاں سے ہم چاہیں تو نیک اعمال اپنے لیۓ جمع کریں اور چاہیں تو خراب اعمال۔ مگر یاد رہے کہ جب بادشاہ کا حکم صادر ہو گا تو اپنی جیل یعنی قبر میں ڈال دیا جاۓ گا۔ اس جیل میں ہر کوئ اکیلا ہوگا جہاں ہمارے ساتھ  صرف ہمارے نیک اعمال کی تھیلی ہوگیٓ۔ تو جو ہم نے جمع کیا ہو گا وہاں ہمیں وہی کام دے گا۔ تو آج تھوڑی سی محنت کر کے اچھی اچھی چیزیں یعنی نیک اعمال اپنے تھیلے میں جمع کر لیں اور وہاں آسانی اور آرام والی زندگی گزاریں۔  

Comments

Popular posts from this blog

Drood Pak Ki Ahmiyat Aur Fazilat (درود پاک کی اہمیت و فضیلت)