Akhri Ashra-e-Ramadan (آخری عشرہِ رمضان)

آخری عشرہِ رمضان

 

رمضان المبارک، رحمان کی طرف سے آنے والا معزز مہمان، نور کا سامان،بے پایاں رحمت کا سائبان، اور انسان کی بخشش کا ایسا حیرت انگیز اور قدرتی سامان ہے کہ اگر انسان پر اسکی حقیقت کھل جاۓ اور اسکی باطنی آنکھ وہ عجائبات اور مناظر دیکھنے لگ جاۓ جو فرشتوں کی آمدو رفت سے پیدا ہوتے ہیں تو وہ دم بخود رہ جاۓ اور اسکی خوشی کا کوئ ٹھکانا نہ رہے ۔

 

رمضان میں اللہ تعالی کے حکم سے، روزہ داروں کے لیۓ، فرشتے رحمتوں کے طباق اور سعادتوں کی سوغات لیکر آسمان سے اترنا شروع ہو جاتے ہیں اور افطاری کے وقت ان پر یہ رحمتیں انڈیل دیتے ہیں یہ سعادتوں سے بھرا ایسا بہار آفریں سماں ہوتا ہے جو اگر ان پر منکشف ہو جاۓ ، تو وہ یہ تمنا کرنے لگ جائیں کہ کاش! سارا سال ہی رمضان بن جاۓ اور انہیں یہ سعادتیں اور برکتیں ہمہ وقت حاصل ہوتی رہیں ۔

 

رمضان بخشش و مغفرت کا ذریعہ رحمتیں اور برکتیں حاصل کرنے کا مہینہ ہے ۔

 

غرضیکہ رمضان ایک ایسا ملکوتی اور نورانی مہمان ہے جو گنہگار انسانوں کے پاس آکر انہیں باطنی آلائشوں سے پاک کر دیتا ہے اور گناہوں کی گندگی سے پاک کر کے جنت میں رہنے کے قابل بنا دیتا ہے۔ یوں تو رمضان کا سارا مہینہ ہی ان صفات و برکات سے معمور ہے مگر آخری دس دن، پہلے بیس دنوں سے بھی زیادہ اہمیت اور انفرادی شان رکھتے ہیں جن میں اعتکاف ہوتا ہے، شبِ قدر کو پانے کی کوشش کی جاتی ہے اور آخر میں صدقہ فطر ادا کیا جاتا ہے، جس طرح رمضان المبارک کے مہینہ کو دوسرے تمام مہینوں پر فوقیت حاصل ہےاسی طرح ماہِ رمضان کا آخری عشرہ پہلے دو عشروں کے مقابلے میں زیادہ فضیلت رکھنے والا ہے، وہ مبارک رات جس کو قرانِ کریم نے ہزار مہینوں سے بہتر فرمایا انہی دنوں میں ہوتا ہے، پھر ان ایام کی اہمیت اس لیۓ اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ اس قیمتی اور مبارک مہینے کے آخری ایام میں ہیں جو کچھ کوتاہی اب تک ھوتی اسکے دور کرنے اور نیکیوں میں جو کمی رہ گئ ہے اسے پورا کرنے کا یہی بہترین اور آخری موقع ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں عبادت وغیرہ کا اہتمام بہت زیادہ فرمایا کرتے تھے اور دوسرں کو بھی اسکی ترغیب و تاکید کرتے تھے۔

 

چنانچہ اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں جس قدر (عبادت میں) ریاضت و مجاہدہ کرتے اور مشقت اُٹھاتے اتنا مجاہدہ اور دوسرے دنوں میں نہیں کرتے تھے۔"      (مسلم)

 

اسلیۓ آج ہمیں بھی غنیمت جان کر اس عشرے کے انوار و برکات کو زیادہ سے زیادہ  اپنے دامن میں سمیٹنا چاہیے کہ اللہ جانے اگلے سال یہ قیمتی دن میسر آئیں بھی یا نہیں،رمضان المبارک کے ان دس دنوں کی راتوں میں سے ایک رات وہ ہے جو کہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے اور جس میں اس دنیا کی تمام کتابوں کی سردار کتاب تمام انسانوں میں سب سے افضل انسان پر نازل ہوئ۔

Comments

Popular posts from this blog

Drood Pak Ki Ahmiyat Aur Fazilat (درود پاک کی اہمیت و فضیلت)