ظلم کا انجام

ظلم کا انجام


حضرت سیدنا عبد المنعم رحمتہ اللہ علیہ اپنے والد سے اور وہ حضرت سیدنا وہب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ کسی ملک میں ایک ظالم بادشاہ رہا کرتا تھا۔

 اس نے ایک عظیم الشان محل بنوایا اور اسکی تعمیر پر کافی مال خرچ کیا، جب تعمیر مکمل ہو چکی تو اس نے ارادہ کیا کہ میں سارے محل کا دورہ کروں اور دیکھوں کہ یہ میری خواہش کے مطابق بنا ہے یا نہیں۔ چنانچہ بادشاہ نے اپنے چند سپاہیوں کو ساتھ لیا اور محل کہ دیکھنے چل پڑا۔ اندر سے دیکھنے کے بعد اس نے محل کے بیرونی حصوں کو دیکھنا شروع کیااور محل کے ارد گرد چکر لگانے لگا۔ ایک جگہ پہنچ کر وہ رک گیا اور ایک جھونپڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ پوچھا، "یہ ہمارے محل کے ساتھ جھونپڑی کس نے بنائ ھے؟ "سپاہیوں نے جواب دیا: ''چند روز سے یہاں ایک مسلمان بوڑھی عورت آئ ہے، اس نے یہ جھونپڑی بنائ ہے اور وہ اس میں اللہ عزوجل کی عبادت کرتی ہے۔"
جب بادشاہ نے یہ سنا تو بڑے مغرورانہ انداز میں بولا: "اس غریب بڑھیا کو یہ جراٰت کیسے ہوئ کہ ہمارے محل کے قریب جھونپڑی بناۓ، اس جھونپڑی کو فوراَ گرادو۔" حکم پاتے ہی سپاہی جھونپڑی کی طرف بڑھے ،بڑھیا اس وقت وہاں موجود نہ تھی۔ سپاہیوں نے آن کی آن میں اس غریب کی جھونپڑی کو ملیامیٹ کردیا۔ بادشاہ جھونپڑی گروانے کے بعد اپنےدوستوں کے ہمراہ اپنے نۓ محل میں 
چلا گیا۔

جب بڑھیا واپس آئ تو اپنی ٹوٹی ہوئ جھونپڑی کو دیکھ کر بڑی غمگین ہوئ اور لوگوں سے پوچھا: "میری جھونپڑی کس نے گرائ ہے۔" لوگوں نے بتایا: "ابھی کچھ دیر قبل بادشاہ آیا تھا، اسی نے تمہاری جھونپڑی گروائ ہے۔" یہ سن کر بڑھیا بہت غمگین ہوئ اور آسمان کی طرف نظر اٹھا کر اللہ عزوجل کی بارگاہ میں یوں عرض گزار ہوئ: "اے میرے پاک پروردگار عزوجل! جس وقت میری جھونپڑی توڑی جا رہی تھی، میں موجود نہ تھی لیکن میرے رحیم و کریم پروردگار عزوجل! تُو تو ہر چیز دیکھتا ہے ، تیری قدرت تو ہر شۓ کو محیط ہے،میرے مولا عزوجل! تیرے ہوتے ہۓ تیری ایک عاجز بندی کی جھونپڑی توڑ دی گئ۔"
اللہ عزوجل کی بارگاہمیں اس بڑھیا کی آہ و زاری اور دعا مقبول ہوئ۔ اللہ عزوجل نے حضرت سیدنا جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ اس پورے محل کو بادشاہ اور اسکے سپاہیوں سمیت تباہ و برباد کر دے۔" حکم پاتے ہی حضرت سیدنا جبرائیل علیہ السلام زمین پر تشریف لاۓ اور سارے محل کو اس ظالم بادشاہ اور اسکے سپاہیوں سمیت زمین بوس کر دیا۔"

خلاصہ

یہ حقیقت ہے کہ ظالم کو اسکے ظلم کا بدلہ ضرور دیا جاتا ہے۔ مظلوم کی بددعا بارگاہِ خداوندی عزوجل میں ضرور قبول ہوتی ہے۔ اللہ عزوجل ہمیں ظالموں کے ظلم سے محفوظ رکھے اور ہماری وجہ سے کسی مسلمان کو کوئ تکلیف نہ پہنچے۔ اے اللہ عزوجل! ہمیں ہر وقت اپنی حفظ و امان میں رکھ اور ہمارا خاتمہ بالخیر فرما۔

آمین بجاہِ النبی الامینﷺ

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

Drood Pak Ki Ahmiyat Aur Fazilat (درود پاک کی اہمیت و فضیلت)